رشتہ دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جس سے آباء و امہات یا ازواج کی طرف سے خاندانی تعلق ہو، جس سے قرابت یا عزیز داری ہو۔ "دیکھیے جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ ہمارے آپ کے عزیز رشتہ دار ہیں نا۔"      ( ١٩٨٠ء، زمیں اور فلک اور، ٧٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'رشتہ' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے صیغۂ امر بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب 'رشتہ دار' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٦٩ء کو "آخر گشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس سے آباء و امہات یا ازواج کی طرف سے خاندانی تعلق ہو، جس سے قرابت یا عزیز داری ہو۔ "دیکھیے جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ ہمارے آپ کے عزیز رشتہ دار ہیں نا۔"      ( ١٩٨٠ء، زمیں اور فلک اور، ٧٩ )